News

Former leader of Baloch separatist movement visits Brussels

Dr. Jumma Khan Marri with Italian MEP Fabio Massimo Castaldo during his visit to Brussels

Dr. Jumma Khan Marri visited Brussels last week on an unusual mission.

He is a leading tribal chief of Balochistan, a south-western province of Pakistan that has immense geo-political and geo-economic significance due to its location, and for having one of the world’s largest deep sea ports the Gawader Port. The port could be pivotal for connectivity between various economic hubs of the world including Europe.

Dr Marri spearheaded a separatist movement in Balochistan for three decades and was in exile, but in February this year he announced he is abandoning the movement realizing that stability in Balochistan was important in the current scenario so that people in the region can reap benefits from the rising economic opportunities with the development of Gawader Port.  Continue reading “Former leader of Baloch separatist movement visits Brussels”

News

مہران مری اور حربیار مری یاد رکھیں کہ حکومت پاکستان سے 1973 والی بلوچ تحریک ختم کروانے کے عوض 98 کروڑ روپے ان کے والد نواب خیر بخش مری نے لئے تھے نہ کہ میر ہزار خان نے

مہران مری اور حربیار مری یاد رکھیں کہ حکومت پاکستان سے 1973 والی بلوچ تحریک ختم کروانے کے عوض 98 کروڑ روپے ان کے والد نواب خیر بخش مری نے لئے تھے نہ کہ میر ہزار خان نے مشہور بلوچ رہنما ڈاکٹر جمعہ خان مری نے نام نہاد بلوچ غدار لیڈر مہران مری کی جانب سے اپنے اور اپنے والد میر ہزار خان مری پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہران مری دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کر لیں۔ بلوچ قوم کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں ہے کہ وہ بھول جائیں کہ کونسا بلوچ لیڈر تھا جس نے 1973 سے لیکر 1992 تک بلوچ تحریک کی کمانڈ کی اور 19 سال تک مسلسل جنگ لڑتا رہا اس تحریک کی خاطر اپنے خاندان سمیت افغانستان منتقل ہوا اور اپنے جنگجوءں کے ساتھ کیمپوں میں قیام پذیر رہا۔ حالانکہ میر ہزار خان مری کو بڑی بڑی آفرز ہوئیں لیکن وہ نہ جھکا اور نہ ہی بکا ۔ ساری بلوچ قوم جانتی ہے کہ وہ کون تھا جو ایک ڈیل کے تحت جنرل ضیاء دور میں جیل سے رہا ہو کر افغانستان گیا اور وہاں جانے کے بعد سب کچھ اپنے ہاتھ میں لےکر سب سے پہلے بلوچستان کے اندر بلوچ فراری کیمپوں کو فوری بند کرنے کا حکم دیا ۔ میر ہزار سمیت تمام بلوچ کمانڈروں کو اس پر شدید حیرت ہوئی کہ اگر بلوچستان میں چلنے والے فراری کیمپ بند ہی کرنے ہیں تو ہم سب کا افغانستان میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے۔ میر ہزارخان مری کے شدید احتجاج کے باوجود نواب خیر بخش مری نے تمام بلوچ فراری کیمپ بند کر دیئے ۔ نواب خیر بخش مری کی اصل صورت تب سامنے آئی جب وہ 1992 میں حکومت پاکستان سے 98 کروڑ روپے لے کر پکستانی 130-C جہاز میں بیٹھ کر کابل سے پاکستان آگئے اور اپنے مری باڈی گارڈز تک کو وہیں چھوڑ دیا۔ اسوقت افغانستان میں موجود تمام مری بلوچوں کو کہا کہ اب میر ہزار کبھی بھی ان بلوچ سرداروں کے کہنے پر ہتھیار نہیں اٹھائے گا بلکہ بلوچ قوم کی یہ جنگ جسے نواب خیربخش مری نے 98 کروڑ روپے اور بلوچستان میں اپنے بیٹوں کیلئے چند وزارتوں کے عوض بیچ دیا ہے۔ اس جنگ میں جن مری بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور تکالیف اٹھائی ہیں میر ہزار خان مری ان کی تکالیف کا مداوا کرے گا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ میر ہزار خان نے محترمہ بےنظیر بھٹو سے تین ہزار مریوں کو نوکریاں دلوائیں۔ جبکہ نہ خود کھبی کوئی وزارت لی اور نہ اپنے بیٹوں کیلئے کھبی کوئی وزارت لی۔ جبکہ مہران مری کے چاروں بھائی بالاچ مری ، چنگیز مری ، حربیار مری اور گزین مری بلوچستان میں ممبر صوبائی اسمبلی رہے اور تین بھائی بلوچستان حکومت میں وزیر رہے ۔ اور حربیار مری نے تو بطور وزیرتعلیم اتنی کرپشن کی کہ انھیں احتساب کے خوف سے ملک سے بھاگنا پڑا۔ اور آج تک واپس نہیں آئے۔ دوسروں کو کٹھ پتلی اور غدار کہنے سے پہلے اپنے خاندان کو دیکھ لو تم لوگوں کی خاندانی تاریخ لالچ اور غداری سے بھری پڑی ہے ۔ میں ڈاکٹر جمعہ خان مری تو اللہ کے کرم سے PHD ڈاکٹر ہوں اور گزشتہ 20/25 سالوں سے ماسکو میں بطور ڈاکٹر جاب کرکے اپنا فلیٹ اور گاڑی لی ہے ۔ مجھے جواب دو کہ مہران مری اور حربیار مری کا ذریعہ معاش کیا ہے اور تم دونوں یورپ میں اتنی پرتعیش زندگی کیسے گزار رہے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ شروع سے ہی ٹکڑوں پہ پل رہے ہو۔ پہلے تم پاکستانی حکومت کے ٹکڑوں پر پل رہے تھے لیکن جب پاکستانی حکومت نے تم لوگوں کے منہ سے اپنی ہڈی نکالی تو تم لوگوں انڈیا کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئے اور اپنے وطن پاکستان پر ہی بھونکنا شروع کر دیا۔ اور تم لوگوں نے بلوچ کاز کے نام پر پیسے کمانا شروع کر دیئے ۔ تم دونوں بھائی اپنے آقا انڈیا کو خوش کرنے کیلئے اور پیسے کمانے کیلئے اپنی دہشتگرد تنظیموں BLA اور UBA کے ذریعے بلوچوں کے ہاتھوں بلوچوں کو ہی مروا رہے ہو ۔ بلوچستان میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کروا رہے ہو ۔ کیا تم دونوں سمجھتے ہو کہ بلوچ کاز کے نام پر تم دونوں بھائیوں نے جن بلوچ لوگوں کو اپنے ذاتی عناد کیوجہ سے قتل کروایا ہے ان بلوچوں کے خاندان تم لوگوں کو معاف کر دیں گے کبھی نہیں ۔ انڈین غلاموں تم دونوں کو بلوچ قوم کے خون کا حساب دینا پڑےگا۔ بلوچ قوم تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میں بہت جلد برطانیہ کا دورہ کروں گا اور تم دونوں کا اصل مکروہ چہرہ برطانوی حکومت اور عوام کے سامنے بےنقاب کروں گا اور انھیں بلوچستان میں تم دونوں کی دہشتگردی کے ناقابل تردید ثبوت دوں گا۔ ابھی تو بلوچ قوم نواب اکبر خان بگٹی کے قتل میں تم لوگوں کے مشکوک کردار کو نہیں بھولی ۔ تم لوگوں کو اسکا حساب بھی دینا پڑے گا۔ اب تم لوگ مزید ڈبل گیم نہیں کر سکو گے۔

News

دشمن بلوچستان میں ناکامی کے بعد PTM کی شکل میں نیا کھیل کھیلنا چاہتا ھے

https://platform.twitter.com/widgets.js

Articles

Baloch activist says RAW asked him to heckle Nawaz in 2015

WASHINGTON: A senior Baloch activist claimed on Tuesday that he heckled former prime minister Nawaz Sharif during his 2015 visit to Washington at the behest of Indian intelligence agency Research and Analysis Wing (RAW).

Ahmer Mustikhan, foun­der of the American Friends of Balochistan (AFB) group, posted three online statements on Facebook on Tuesday after a district court in Maryland rejected an appeal to muzzle him.

AFB’s two Indian supporters — Soumya Chowd­hury and Krishna Gudipati — had filed the appeal, asking the judge to stop Mr Mustikhan from publicly sharing the internal affairs of the group. The court agreed with the Baloch activist’s plea that the US constitution guaranteed his freedom of expression. Continue reading “Baloch activist says RAW asked him to heckle Nawaz in 2015”

Articles, News

Former separatist leader says CPEC will change fate of Balochistan

QUETTA: Dr Jumma Khan Marri, a former separatist leader and president of the recently formed Over­seas Pakistani Baloch Unity, has said that development projects like the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) will change the fate of Balochistan.

Addressing a gathering in the Kohlu area from Moscow on telephone on Wednesday, he said that those opposing the CPEC and other development projects were not only the enemies of Pakistan but also the people of Balochistan.

Dr Marri, who recently disassociated himself from the separatist movement, urged all the Baloch who are still on the mountains to lay down their weapons, join mainstream and start contributing to the development projects for the betterment of Balochistan. Continue reading “Former separatist leader says CPEC will change fate of Balochistan”