News

مہران مری کی جانب سے ایک بار پھر ہندوں کے تلوے چاٹنے کے عزم کا اعادہ

آج نام نہاد بلوچ لیڈر مہران مری نے ایک بار پھر ہندو بنئیے سے مدد مانگ کر اور جے ہند کا نعرہ لگا کر اپنی غلامانہ ذہنیت کا ثبوت دے دیا ۔ جو شخص ہندو کے ٹکڑوں پر پل رہا ہو اور صرف اپنی عیاشیوں کی خاطر مودی اور RAW کے تلوے چاٹ رہا ہو وہ غیور بلوچ قوم کا لیڈر کیسے ہو سکتا ہے ۔ مودی کے غلاموں حربیار مری اور مہران مری کی تائید میں بولنے والوں کی آنکھیں اگر ان بیانات کے بعد بھی نہیں کھلتیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی ذہنی طور پر ہندو بنیئے کے غلام ہیں ۔
میں ڈاکٹر جمعہ خان مری غیور بلوچ قوم کے سامنے کچھ حقائق رکھنا چاہتا ہوں فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے
نمبر 1 – حربیار مری اور مہران مری یورپ میں جو پراپرٹیز بنا رہے ہیں اور جو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اس کیلئے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے –
نمبر 2 – کل تک BLA کا مرکزی لیڈر حربیار مری ، اسلم بلوچ کا ذبردست مخالف تھا کیونکہ اسلم بلوچ نے بھارتیوں سے ڈائریکٹ آرڈرز اور فنڈنگ لینی شروع کر دی تھی ۔ یہاں تک کہ حربیار مری نے پہلے BLA کے تمام کمانڈروں کو اسلم بلوچ سے دور رہنے کا کہہ دیا اور پھر اپنے خاص کمانڈروں کو اسلم بلوچ کو مارنے کا ٹاسک دیدیا ۔ پھر حربیار مری نے اپنے ہندو آقاوں سے کو کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اور میری تنظیم BLA آپ کا ساتھ دیں تو آپ فوری طور پر اسلم بلوچ کو انڈیا سے نکالیں ۔ Indians نے حربیار مری کے اسرار اور پاکستان میں چائنیز قونصلیٹ پر حملے میں expose ہونے کے بعد فوری طور پر اسلم بلوچ کو انڈیا سے افغانستان منتقل کردیا جہاں پر حربیار مری کے خاص BLA کمانڈروں نے اسلم بلوچ کو مروا دیا ۔ کیونکہ اسلم بلوچ ایک تو حربیار مری سےزیادہ مقبول ہو رہا تھا دوسرا وہ Indians سے ڈائریکٹ ہو گیا تھا اور حربیار کے علاوہ بھارتیوں سے براہ راست بھی احکامات اور Funds لے رہا تھا جس سے حربیار مری کی دوکانداری متاثر ہو رہی تھی –
لیکن جونہی اسلم بلوچ افغانستان میں مارا گیا حربیار مری اور اسکی دہشتگرد تنظیم BLA نے اسلم بلوچ کو بطور ہیرو پیش کرنا شروع کردیا ۔
نمبر 3 – یہ بات طے ہے کہ حربیار اور مہران مری اور ان کی زبان بولنے والے کچھ دوسرے لوگوں کا بلوچ قوم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ یہ صرف پیسے کی خاطر ہندوں کے تلوے چاث رہے ہیں اور ان کی دیکھادیکھی کچھ اور لوگ بھی حصول دولت کیلئے ان نام نہاد لیڈروں کی وکالت کرہے ہیں ۔

ان سب لوگوں کو بلوچ قوم Reject کر چکی ہے ۔ بلوچستان CPEC اور گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد ترقی اور خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہونے والا ہے ۔ جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا پاکستا ن ترقی کرے گا –

News, Videos

Led by top BLA commander, 70 militants surrender from Afghanistan

Congratulations to all peace loving Balochs. My heartiest felicitation to Mir Sarfraz Ahmed Bughti and Government authorities for this great success. I also welcome Daran Marri back to mainstream and reiterate my request to all others to lay their weapons and work for development & progress of Balochistan, Pakistan. Remember “Together we stand, divided we fall”.
Dr. Jumma Khan Marri , Founder (OPBU) Overseas Pakistani Baloch Unity
News

Former leader of Baloch separatist movement visits Brussels

Dr. Jumma Khan Marri with Italian MEP Fabio Massimo Castaldo during his visit to Brussels

Dr. Jumma Khan Marri visited Brussels last week on an unusual mission.

He is a leading tribal chief of Balochistan, a south-western province of Pakistan that has immense geo-political and geo-economic significance due to its location, and for having one of the world’s largest deep sea ports the Gawader Port. The port could be pivotal for connectivity between various economic hubs of the world including Europe.

Dr Marri spearheaded a separatist movement in Balochistan for three decades and was in exile, but in February this year he announced he is abandoning the movement realizing that stability in Balochistan was important in the current scenario so that people in the region can reap benefits from the rising economic opportunities with the development of Gawader Port.  Continue reading “Former leader of Baloch separatist movement visits Brussels”

News

مہران مری اور حربیار مری یاد رکھیں کہ حکومت پاکستان سے 1973 والی بلوچ تحریک ختم کروانے کے عوض 98 کروڑ روپے ان کے والد نواب خیر بخش مری نے لئے تھے نہ کہ میر ہزار خان نے

مہران مری اور حربیار مری یاد رکھیں کہ حکومت پاکستان سے 1973 والی بلوچ تحریک ختم کروانے کے عوض 98 کروڑ روپے ان کے والد نواب خیر بخش مری نے لئے تھے نہ کہ میر ہزار خان نے مشہور بلوچ رہنما ڈاکٹر جمعہ خان مری نے نام نہاد بلوچ غدار لیڈر مہران مری کی جانب سے اپنے اور اپنے والد میر ہزار خان مری پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مہران مری دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کر لیں۔ بلوچ قوم کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں ہے کہ وہ بھول جائیں کہ کونسا بلوچ لیڈر تھا جس نے 1973 سے لیکر 1992 تک بلوچ تحریک کی کمانڈ کی اور 19 سال تک مسلسل جنگ لڑتا رہا اس تحریک کی خاطر اپنے خاندان سمیت افغانستان منتقل ہوا اور اپنے جنگجوءں کے ساتھ کیمپوں میں قیام پذیر رہا۔ حالانکہ میر ہزار خان مری کو بڑی بڑی آفرز ہوئیں لیکن وہ نہ جھکا اور نہ ہی بکا ۔ ساری بلوچ قوم جانتی ہے کہ وہ کون تھا جو ایک ڈیل کے تحت جنرل ضیاء دور میں جیل سے رہا ہو کر افغانستان گیا اور وہاں جانے کے بعد سب کچھ اپنے ہاتھ میں لےکر سب سے پہلے بلوچستان کے اندر بلوچ فراری کیمپوں کو فوری بند کرنے کا حکم دیا ۔ میر ہزار سمیت تمام بلوچ کمانڈروں کو اس پر شدید حیرت ہوئی کہ اگر بلوچستان میں چلنے والے فراری کیمپ بند ہی کرنے ہیں تو ہم سب کا افغانستان میں بیٹھنے کا کیا فائدہ ہے۔ میر ہزارخان مری کے شدید احتجاج کے باوجود نواب خیر بخش مری نے تمام بلوچ فراری کیمپ بند کر دیئے ۔ نواب خیر بخش مری کی اصل صورت تب سامنے آئی جب وہ 1992 میں حکومت پاکستان سے 98 کروڑ روپے لے کر پکستانی 130-C جہاز میں بیٹھ کر کابل سے پاکستان آگئے اور اپنے مری باڈی گارڈز تک کو وہیں چھوڑ دیا۔ اسوقت افغانستان میں موجود تمام مری بلوچوں کو کہا کہ اب میر ہزار کبھی بھی ان بلوچ سرداروں کے کہنے پر ہتھیار نہیں اٹھائے گا بلکہ بلوچ قوم کی یہ جنگ جسے نواب خیربخش مری نے 98 کروڑ روپے اور بلوچستان میں اپنے بیٹوں کیلئے چند وزارتوں کے عوض بیچ دیا ہے۔ اس جنگ میں جن مری بلوچوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں اور تکالیف اٹھائی ہیں میر ہزار خان مری ان کی تکالیف کا مداوا کرے گا۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ میر ہزار خان نے محترمہ بےنظیر بھٹو سے تین ہزار مریوں کو نوکریاں دلوائیں۔ جبکہ نہ خود کھبی کوئی وزارت لی اور نہ اپنے بیٹوں کیلئے کھبی کوئی وزارت لی۔ جبکہ مہران مری کے چاروں بھائی بالاچ مری ، چنگیز مری ، حربیار مری اور گزین مری بلوچستان میں ممبر صوبائی اسمبلی رہے اور تین بھائی بلوچستان حکومت میں وزیر رہے ۔ اور حربیار مری نے تو بطور وزیرتعلیم اتنی کرپشن کی کہ انھیں احتساب کے خوف سے ملک سے بھاگنا پڑا۔ اور آج تک واپس نہیں آئے۔ دوسروں کو کٹھ پتلی اور غدار کہنے سے پہلے اپنے خاندان کو دیکھ لو تم لوگوں کی خاندانی تاریخ لالچ اور غداری سے بھری پڑی ہے ۔ میں ڈاکٹر جمعہ خان مری تو اللہ کے کرم سے PHD ڈاکٹر ہوں اور گزشتہ 20/25 سالوں سے ماسکو میں بطور ڈاکٹر جاب کرکے اپنا فلیٹ اور گاڑی لی ہے ۔ مجھے جواب دو کہ مہران مری اور حربیار مری کا ذریعہ معاش کیا ہے اور تم دونوں یورپ میں اتنی پرتعیش زندگی کیسے گزار رہے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ شروع سے ہی ٹکڑوں پہ پل رہے ہو۔ پہلے تم پاکستانی حکومت کے ٹکڑوں پر پل رہے تھے لیکن جب پاکستانی حکومت نے تم لوگوں کے منہ سے اپنی ہڈی نکالی تو تم لوگوں انڈیا کے قدموں میں جا کر بیٹھ گئے اور اپنے وطن پاکستان پر ہی بھونکنا شروع کر دیا۔ اور تم لوگوں نے بلوچ کاز کے نام پر پیسے کمانا شروع کر دیئے ۔ تم دونوں بھائی اپنے آقا انڈیا کو خوش کرنے کیلئے اور پیسے کمانے کیلئے اپنی دہشتگرد تنظیموں BLA اور UBA کے ذریعے بلوچوں کے ہاتھوں بلوچوں کو ہی مروا رہے ہو ۔ بلوچستان میں بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کروا رہے ہو ۔ کیا تم دونوں سمجھتے ہو کہ بلوچ کاز کے نام پر تم دونوں بھائیوں نے جن بلوچ لوگوں کو اپنے ذاتی عناد کیوجہ سے قتل کروایا ہے ان بلوچوں کے خاندان تم لوگوں کو معاف کر دیں گے کبھی نہیں ۔ انڈین غلاموں تم دونوں کو بلوچ قوم کے خون کا حساب دینا پڑےگا۔ بلوچ قوم تم لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میں بہت جلد برطانیہ کا دورہ کروں گا اور تم دونوں کا اصل مکروہ چہرہ برطانوی حکومت اور عوام کے سامنے بےنقاب کروں گا اور انھیں بلوچستان میں تم دونوں کی دہشتگردی کے ناقابل تردید ثبوت دوں گا۔ ابھی تو بلوچ قوم نواب اکبر خان بگٹی کے قتل میں تم لوگوں کے مشکوک کردار کو نہیں بھولی ۔ تم لوگوں کو اسکا حساب بھی دینا پڑے گا۔ اب تم لوگ مزید ڈبل گیم نہیں کر سکو گے۔

News

دشمن بلوچستان میں ناکامی کے بعد PTM کی شکل میں نیا کھیل کھیلنا چاہتا ھے

https://platform.twitter.com/widgets.js